مینگورہ، پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن ضلع سوات نے باچا خان یونیورسٹی پرہونے والے د ہشتگردی کے خلاف سوات پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ، مظاہرین نے مرکزی اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی ، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر مختلف قسم کے نعرے درج تھے ، احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس ایف کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام علی اور سابقہ ضلعی صدر گوہر علی پختونیار اور دیگر مقررین نے کہا کہ ہم چارسدہ میں ہونے والے دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہیں ، مقررین نے کہا کہ اگر ظلم و ستم کا یہ سلسلہ نہ روکا گیا توہم مجبوراً کلاسز سے بائیکاٹ کرینگے ، انہوں نے کہا کہ 10 دن پہلے انٹلیجنس رپورٹ میں دہشت گردی کے واقع کے بارے میں خبر دار کیا گیا تھا اور اس کے باوجود سیکورٹی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا ئے گئے ، مقررین نے کہ ہمیشہ پختونخوا میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہونا سمجھ سے بالا تر ہے اور اس میں زیادہ تر تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا پختون قوم کے پچوں پر تعلیم کے دروازے سے بند کرنے کے مترادف ہے ، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا اور اے این پی نے اٹھا ئے ہیں ، مقررین نے کہا کہ دہشت گردی کو روکنے میں مرکزی اور صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ دہشت گردی کے واقع میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کریں اور انہیں قرار واقعی سزادی جائے ، دریں اثناء اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی ضلع سوات کے قائدین خواجہ خان ، ابراہیم دیولئی اور دیگر بھی موجود تھے ۔
578 total views, no views today


