خیبر پختون خوا کے شہر چارسدہ میں باچا خان یونی ورسٹی پر صبح کے وقت مسلح شدت پسندوں کا حملہ جن میں ایک پروفیسر سمیت دو درجن کے قریب افراد کی ہلاکت اور اس سے ایک دن قبل شام کے وقت جمرود میں خودکش دھماکہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ دہشت گرد ابھی تک موجود ہیں اور آپریشن ضرب عضب کے ذریعے انھیں ختم کرنے کے اعلانات کرنے والے جمہوری اور عسکری حکام عوام کو محض اپنے خوش کن دعوؤں سے بہلا رہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی پاکستان نے تین سو پچاس کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل رعد کا کامیاب تجربہ بھی کیا ہے جس کا مقصد وطن عزیز کی سلامتی اور اس کے دفاع کو مزید مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم پاکستان کو بیرونی حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایٹمی اسلحہ اور میزائل سازی کے سلسلہ میں کامیابیوں کے دعوے تو کر رہے ہیں لیکن اصل دشمن جو ملک کے اندر موجود ہے، بے گناہ عوام سے برسر پیکار ہے، اسے ختم کرنے میں ابھی تک کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
ہمارے سِول اور عسکری ذرائع روز قوم کو خوش خبریاں سناتے رہتے ہیں کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور اب آخری دہشت گرد رہ گیا ہے جس کے خاتمے تک آپریشن ضربِ عضب جاری رہے گا لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جن دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، وہ اپنی ٹوٹی ہوئی کمر کے باوجود پختون سرزمین میں وقتاً فوقتاً خون کی ہولی کھیلتے رہتے ہیں۔ جن کے ذمہ عوام کے جان و مال کی حفاظت ہے، وہ کسی بھی خونیں واقعہ اور سانحہ کے بعد موقع واردات پر فوراً پہنچ جاتے ہیں، متاثرہ مقام کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اور ’’خود کش حملہ آور‘‘ کا سر اور اس کے دیگر جسمانی اعضاء دریافت کرنے کی خوش خبری سنادیتے ہیں لیکن کہیں سے کوئی آواز بلند ہوتی نظر نہیں آتی کہ دہشت گردی کی پیشگی اطلاع دینے کے باوجود سکیورٹی اداروں نے غفلت کا مظاہرہ کیوں کیا؟ وطن عزیز کے جس طاقت ور اور مقتدر ادارے نے دہشت گردوں کے خلاف محاذ سنبھال رکھا ہے، افغانستان، بھارت اور دیگر ممالک کے حوالے سے خارجہ پالیسیاں جن کے اشاروں اور مرضی سے تشکیل پاتی ہیں، ان سے کوئی بازپرس نہیں کی جاسکتی کہ بہت سے حساس اداروں اور چیک پوسٹوں پر سخت سکیورٹی کے باوجود دہشت گرد اپنا ہدف نشانہ بنانے میں کامیاب کیوں ہوتے ہیں؟ تاہم اس حوالے سے جمہوری حکمرانوں کو خوب لعن طعن کا نشانہ ضرور بنایا جاتاہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے مراکز آخر صوبہ خیبر پختون خوا اور وزیرستان کے علاقے کیوں ہیں؟ سب سے زیادہ دہشت گردی کا ہدف پختون اور پختون علاقے کیوں بنے ہوئے ہیں؟ یقینا اس کے ڈانڈے سابق مردِ مومن جنرل ضیاء الحق کے دور میں بننے والی عسکری پالیسیوں سے ملتے ہیں۔ سوویت یونین کے خلاف امریکا کی جنگ لڑتے ہوئے اُس وقت کے جرنیلوں نے صوبہ خیبر پختون خوا کوافغان جنگ جُو گروپوں کی ٹریننگ کے لیے استعمال کیا۔ نہ صرف صوبے کی سرزمین کو اس مقصد کے لیے منتخب کیا گیا بلکہ پختون بچوں کے ہاتھوں میں قلم کی بجائے اسلحہ بھی تھما دیا گیا۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکا پوری دنیا کا واحد سپرپاور بن گیا، اس وقت کے جرنیلوں نے امریکی ڈالروں سے اپنی جھولیاں بھردیں لیکن اس کے بھیانک نتائج افغانستان اور پاکستان کے پختون ابھی تک اپنے خون کا نذرانہ دے کر بھگت رہے ہیں۔ دفاعی گہرائی کے نام پر ضیاء دور کی پالیسیاں کسی نہ کسی شکل میں بعد میں بھی جاری و ساری رہیں جن کو جنرل پرویز مشرف نے اپنے آمرانہ دورِ اقتدار میں بام عروج تک پہنچایا اور جس کے نتیجے میں دہشت و وحشت کا جنونی رقص ملک کے طول و عرض میں پھیلتا چلا گیا۔ تاہم موجودہ عسکری قیادت نے اگرچہ ان پالیسیوں سے انحراف کرتے ہوئے انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کرلی ہیں لیکن یوں لگتا ہے جیسے ابھی بھی کچھ ریاستی ادارے اس کھیل کو محدود دائرے میں جاری رکھنے پر مصر ہوں۔
یہ درست ہے کہ دہشت گردی کے واقعات پورے ملک میں ہوتے رہے ہیں لیکن خیبر پختون خوا میں جس تسلسل کے ساتھ یہ انسانیت کش واقعات رونما ہو رہے ہیں، اس کے مقابلہ میں دوسرے صوبوں میں ہونے والے واقعات کو اِکا دکا ہی قراردیا جاسکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے ان واقعات سے کوئی جگہ، کوئی مقام محفوظ نہیں رہا ہے۔ مسجدوں، چرچوں، عدالتوں، اسپتالوں، ہوٹلوں، بازاروں، حجروں، اسکولوں اور یونی ورسٹیوں تک میں ان تباہ کن واقعات کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پورے خیبر پختون خوا کے اعداد وشمار تو اس وقت میرے پاس موجود نہیں لیکن صرف سوات میں تین سو سے زائد اسکولوں کو دہشت گردوں نے دھماکوں سے اڑادیا ہے۔ بعض صحت مراکز، ہوٹل اور درجنوں رابطہ پل اس کے علاوہ ہیں جو انتہاپسندوں کی جارحانہ کارروائیوں کا ہدف بنے تھے۔ پشاور میں آرمی پبلک اسکول میں دہشت گردوں نے جو انسانیت سوز کارروائی کی تھی، اس کی غیرجانب دارانہ تحقیق ابھی تک نہیں ہوسکی ہے۔ اس واقعہ میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے قریباً ہر فورم پر حکومت اور فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ آرمی پبلک اسکول کے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں لیکن اس کے جواب میں ان والدین کو ریاست کے بعض مقتدر اداروں کی طرف سے باقاعدہ دھمکیاں ملتی رہی ہیں کہ ایسا مطالبہ نہ کیا جائے، ورنہ انھیں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آرمی پبلک اسکول میں بے گناہ اور معصوم بچوں کو جس طرح بے دردی سے شہید کیا گیا تھا، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اسکول کے قرب میں واقع مقتدر ادارے کے صوبائی سربراہ سے جواب طلب کیاجاتا کہ اس قدر حساس مقام پر آرمی پبلک اسکول میں درجن بھر دہشت گرد کیسے داخل ہوئے؟ اس سلسلہ میں فوری طور پر عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا جاتا اور اس اَمر کا جائزہ لیاجاتا کہ سکیورٹی کا ذمہ دار کون تھا اور کہاں پرکس نے غفلت کی ہے؟ اگر ایسا کیا جاتا اور اصل حقائق منظر عام پرلائے جاتے، تو آج چارسدہ میں باچا خان یونی ورسٹی دہشت گردی کا نشانہ، نہ بنتی۔ اس حملہ کے فوری بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان نے نہ صرف اس حملے سے لا تعلقی کا اعلان کیا تھا بلکہ اس کی شدید مذمت بھی کی تھی لیکن بعد ازاں طالبان رہنما خلیفہ عمر منصور نے بی بی سی اردوکو ٹیلی فون کرکے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ تحریک طالبان درہ آدم خیل و پشاور نے کیا تھا۔ ’’تحریک طالبان پاکستان‘‘ کے متضاد بیانات کئی سنجیدہ سوالوں کو جنم دیتے ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
بہت ہوچکا، بہت خون بہا، بہت سی پختون مائیں اپنے بچوں سے محروم ہوگئیں، بہت سی خواتین بیوہ، بچے یتیم اور والدین سہاروں سے محروم ہوگئے۔ اب اور کتنا خون بہانا ہے، بے گناہ پختونوں کا؟
ظالمو! اب بس بھی کرو۔ پختون کبھی مذہب کے مقدس نام پر ذبح ہوتے ہیں، کبھی دفاعِ وطن کے نام پر انھیں قربانی کا بکرا بنایا جاتاہے۔ وہ اگر اُف کرتے ہیں، تو ان پر وطن سے غداری کا الزام دھر دیا جاتا ہے۔ خون بھی ان کا بہایا جاتا ہے اور دہشت گرد بھی انھیں قرار دیا جاتا ہے اور اس پر مستزاد قیامِ امن کے لیے کیے جانے والے فوجی آپریشنوں میں دربدری کا عذاب بھی انھیں سہنا پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ بے گناہ پختونوں کا خون آخر کب تک بہتا رہے گا؟
671 total views, no views today


