مینگورہ: ضلع سوات میں صنفی تشدد اور انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں ‘ انسانی حقوق کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 2011 میں قومی اسمبلی سے منظور شدہ” عورتوں کے خلاف منفی رسومات کے تداراک کا قانون 2011 کوصوبہ خیبرپختونخواہ کے زیر انتظام قبائلی علاقوں) پاٹا( تک جلد سے جلد توسیع دی جائے تاکہ صوبہ کے دیگر اضلاع کی طرح ملاکنڈ ڈویژن اورضلع سوات میں خواتین کے خلاف منفی رسومات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے-مذکورہ مطالبہ مینگورہ کے ایک مقامی ہوٹل میں پاکستان ویلج ڈویلپمنٹ پروگرام )پی وی ڈی پی( ‘ دی اویکننگ سوات اور ای وی اے ڈبلیو جے خیبرپختونخواہ اور فاٹا الائنس کے زیر اہتمام ای وی اے ڈبلیو جے ضلع سوات کے چیپٹر کے آغاز کے موقع پرمنعقدہ ورکشاپ میں کیا گیا۔ورکشاپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر موجودمختلف قوانین سمیت ہمارا مذہب اسلام خواتین کو ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کبھی اسلام کے نام پر تو کبھی پختون ولی کے نام پر ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جاتا رہا ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ویلج ڈویلپمنٹ پروگرام)پی وی ڈی پی( ‘ دی اویکننگ سوات اورای وی اے ڈبلیو جے خیبرپختونخواہ اور فاٹا الائنس کے زیر اہتمام منعقدہ ہونیوالے ورکشاپ سے مختلف مقررین نے اپنے خطاب میں کیا۔ورکشاپ میں ضلع سوات میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں سمیت خواتین کی بڑی تعدادنے شرکت کی ۔تقریب میں دی اویکننگ سوات کے ایگزیکٹیو ڈائریٹر عرفان حسین بابک ‘ پی وی ڈی پی کے پروگرام مینجر نہار محمدایڈوکیٹ اورای وی اے ڈبلیو جے الائنس خیبرپختونخواہ کے Co-Chair محمد فدا جان نے خواتین پر تشدد کے مختلف پہلوؤں اور سوات میں رونما ہونے والے واقعات پر روشنی ڈالی جبکہ شرکاء نے خواتین پر صنفی تشدد کے واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف گالی گلوچ اورمار پیٹ ہی صنفی تشدد کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ معاشرے میں خواتین کے حوالے سے پائے جانے والی منفی رسومات اور رویئے بھی صنفی امتیاز کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔اس موقع پر غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے مشترکہ اعلامیے/ قرارداد کے ذریعے ای وی اے ڈبلیو جے الائنس ضلع سوات چیپٹر کے آغاز سمیت عبوری انتظامیہ کی منظوری دیتے ہوئے پی وی ڈی پی ‘ دی اویکننگ سوات اور ۔۔۔۔۔۔۔۔ کو تین ماہ کیلئے عبوری انتظامیہ کی ذمہ داریاں بھی سونپی ۔ ای وی اے ڈبلیو جے خیبرپختونخواہ کے Co-Chair محمد فدا جان نے دی اویکننگ سوات اور پی وی ڈی پی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ضلع سوات میں انسانی حقوق کے علمبرداروں اور انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں پر زور دیا کہ وہای وی اے ڈبلیو جے الائنس سوات چیپٹر میں رضاکارانہ ممبرشپ /رجسٹریشن میں بھرپور حصہ لیں تا کہ ملاکنڈ ایجنسی میں باالعموم اور ضلع سوات میں باالخصوص خواتین پر ہونے والے صنفی تشدد کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے ۔اس موقع پر محمد فدا جان نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ عورتوں کے خلاف منفی رسومات کے تدارک کے قانون 2011 سمیت کہ عورتوں کے حقوق کے حوالے سے موجود دیگر قوانین کوجلد سے جلد پاٹا تک توسیع دی جائے تاکہ خواتین کے خلاف منفی رسومات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔محمد فدا جان نے ای وی اے ڈبلیو جے سوات چیپٹر کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کی۔
1,072 total views, no views today


