سوال اکیلے ساڑھے چودہ کروڑ روپے کے نقصان کا نہیں ہے، سوال سیدو اسپتال کی انتظامیہ کی نا اہلی کا بھی نہیں ہے بلکہ سوال تو ملاکنڈ ڈویژن کے لاکھوں عارضۂ قلب میں مبتلا مریضوں کی زندگی اور موت کا ہے، اور اس نکتے نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ میری دیگر تحاریر کی طرح اس کا بھی کسی پر اثر نہیں ہونے والا، اور نہ یہ خالی خولی تحریر کسی کا کچھ بگاڑ سکتی ہے، مگر پھر بھی اپنی تسلی کے لیے ساڑھے چودہ کروڑروپے، سیدو اسپتال کے ’’اعزاز یافتہ‘‘ انتظامیہ کی نااہلی اور عارضۂ قلب میں مبتلا لاکھوں بے بس و لاچار مریضوں کی خاطر قلم اٹھا رہا ہوں۔
میں نے اس حوالے سے اپنے سینئرز سے بھی بات کی۔ وادئ سوات کے چوٹی کے صحافیوں کو وہ ای میل بھیجی، جو ایک اللہ والے نے مجھے بھیجی ہے اور جس کی وجہ سے میری راتوں کی نیند حرام ہوچکی ہے۔ مگر افسوس کہ وہ ای میل میری طرح میرے کسی بھی سینئر کی نیند حرام نہ کر سکی۔ مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ رقم کرنا پڑ رہا ہے کہ میرے سینئرز ’’وردی والے صاحبان‘‘ کی ایک کال پر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ’’اسنو فیسٹول اور میوزکل نائیٹس‘‘ جیسے بے مقصد پروگراموں کی مبالغہ آمیز رپورٹنگ کرنے کو تو تیار رہتے ہیں، ایک چھوٹا سا مسئلہ بڑی سے بڑی اسٹوری کی شکل میں پیش کرنے میں عار تک محسوس نہیں کرتے، مگر حقیقی مسائل کو وہ پرکاہ جتنی اہمیت بھی نہیں دیتے۔
آمدم برسر مطلب، مجھے ایک اللہ والے کی طرف سے ای میل ملی ہے کہ اگر اہل سوات یوں ہی سوئے رہے اور انھوں نے بروقت آواز نہ اٹھائی، تو انھیں ماہ مئی کے اواخر تک ساڑھے چودہ کروڑ کا نقصان اٹھانا کا اندیشہ ہے۔ ای میل کا لب لباب حاضر خدمت ہے:
’’محترم امجد علی سحابؔ ! امید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے۔
بات کچھ یوں ہے کہ سابقہ ایم پی اے محمد امین صاحب کی دن رات محنت کی وجہ سے نہ صرف سوات بلکہ پورے ملاکنڈ ڈویژن کے دل کے مریضوں کے لیے ایک مشین Angiography Machine (Cath Lab.) منظور ہوئی ہے۔ یہ مشین پورے صوبے میں صرف لیڈی ریڈنگ ہاسپٹل اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (پشاور) میں فعال صورت میں موجود ہے، جب کہ غیر فعال صورت میں ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس (ایبٹ آباد) میں بھی یہ موجود ہے۔ دل کے مریضوں کے علاوہ بھی مذکورہ مشین زندگی بچانے کے دیگر علاج معالجہ میں نہایت مفید ہے۔ اگر کسی کو دل کا دورہ پڑتا ہے یا پہلے سے کوئی عارضۂ قلب میں مبتلا ہے، تو ایسے ہر دو مریضوں کے لیے مذکورہ مشین گویا دم عیسیٰ کا کام کرتی ہے۔ اب یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ سوات اور پشاور کے درمیان فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے بیش تر مریض راستہ ہی میں زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ دست یاب اعداد و شمار کے مطابق صوبہ کے کسی بھی علاقہ میں دل کے مریضوں کی تعداد ملاکنڈ ڈویژن سے زیادہ نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے دو ہزار تیرہ، چودہ کے بجٹ میں سیدو اسپتال کے لیے مذکورہ مشین کی فراہمی کی خاطر ساڑھے چودہ کروڑ روپے کی خطیر مختص کی ہے، جس کا سہرا بے شک سابقہ ایم پی اے محمد امین کے سر ہے، جنھوں نے یہ کام ممکن بنانے کے لیے اپنی دور حکومت میں بڑے پاپڑ بیلے ہیں۔ اب خوش آئند بات یہ ہے کہ مشین کی خریداری کے لیے کام شروع ہوچکا ہے۔ (دو میں سے) ایک ٹینڈر فائنل ہوچکا ہے اور دوسرا حتمی مراحل میں ہے۔ اس دوران میں محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی طرف سے بار بار سیدو اسپتال کی انتظامیہ کو آگاہ کیا جا چکا ہے کہ اسپتال کے احاطہ میں نئی زیر تعمیر عمارت کو بر وقت مکمل کیا جائے، تاکہ مشین کو اس میں نصب کیا جا سکے۔ کیوں کہ والئی سوات دور والی عمارت میں مشین نہیں لگائی جاسکتی۔ مگراپنی ’’گراں قدر خدمات‘‘ کے عوض تمغہ جرأت حاصل کرنے والے اسپتال کے چیف ایگزیکٹو اور عالی اقدس ایم ایس صاحب کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس پر طرّہ یہ کہ موجودہ صوبائی حکومت نے سیدو اسپتال کی انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ اگر انتظامیہ بروقت اسپتال کی نئی زیر تعمیر عمارت مکمل نہ کر سکی، تو رواں مالی سال یہ منصوبہ مؤخر کیے جانے کا قوی امکان ہے۔
محترم سحابؔ صاحب! اب اگر اسپتال انتظامیہ بروقت تعمیراتی کام مکمل نہیں کرپاتی، تو منصوبہ واقعی مؤخر کر دیا جائے گا، اور یہ ہم سب خوب جانتے ہیں کہ مملکت خدادا میں اگر ایک بارکوئی چیز ہاتھ سے نکلتی ہے، تو پھر واپس اس کا حصول مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا ہے۔ اب یہاں آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک میری آواز پہنچائیں (نام نہیں)۔ سیدو اسپتال کی نئی عمارت تکمیل کے مراحل میں ہے۔ بس اس پر کام تھوڑا سا تیز کرنے کی دیر ہے۔ امید ہے آپ اس سلسلے میں اہلِ سوات کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
آپ کا بھائی
اب پ
ای میل پڑھتے ہی ملا کی دوڑ مسجد تک کے مصداق میں نے سب سے پہلے اپنے سینئرز کی طرف رجوع کیا۔ ان سے تسلی بخش جواب نہیں پایا، تو لکھنے بیٹھ گیا۔
اب اس ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے میری سب سے پہلے قابل صد احترام ڈاکٹر سلطان روم، استاد محترم فضل ربی راہیؔ ، فضل محمود روخان، حاجی رسول خان، فضل مولا زاہدؔ ، فضل رازق شہابؔ ، پروفیسر سیف اللہ، محمد علی دینا خیل، شوکت شرار اور جاوید احمد (انگلستان) سے درخواست ہے کہ اس مسئلے پر اپنا اپنا قلم اٹھائیں۔ حاجی محمد علی، حاضر گل، عثمان اولس یار، عطاء اللہ جان اور ان کے دیگر ساتھیوں کو بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے علاوہ مینگورہ روٹری کلب کے چیئرمین افضل شاہ صاحب، جنرل سیکرٹری احمد شاہ صاحب سے بھی میری درخواست ہے کہ وہ اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اسپتال انتظامیہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں۔ دیگر شخصیات میں سے سوات پریس کلب کے چیئرمین رشید اقبال، بازار صدر عبدالرحیم، ہوٹل ایسوسی ایشن صدر حاجی زاہد خان، ہر دل عزیز ڈاکٹر خالد محمود خالد اور معمار سوات محمد امین سے خصوصی طور پر گزارش ہے کہ اس ضمن میں اپنے چاہنے والوں کی ایک ٹیم تیار کر لیں اوراہل سوات کو اس نقصان سے بچانے کی خاطر ’’اعزاز یافتہ‘‘ چیف ایگزیکٹو اور’’عالی حضرت‘‘ ایم ایس صاحب پر زور ڈالیں کہ وہ بر وقت اسپتال کے تعمیراتی کام کو مکمل کروائیں۔ ورنہ مئی کے مہینے کے بعد جتنے عارضۂ قلب میں مبتلا مریض مذکورہ بالا مشین کی نایابی سے جان سے ہاتھ دھوئیں گے، ان سب کا خون سب سے پہلے اسپتال انتظامیہ اور اس کے بعد ہم سب کے گردن پر ہوگا۔ خدائے لم یزل دنیاوی تمغوں، فیتوں یا اسٹارز کی طرف نہیں دیکھتا، اس کے دربار میں اعمال کام آتے ہیں، (صوم و صلوٰۃ والے اعمال یہاں مراد نہیں)۔
مجھے تب تک نیند نہیں آئے گی جب تک یہ درد کسی ’’آواز بلند کرنے والے‘‘ کو منتقل نہیں ہوگی۔ دیکھتا ہوں کہ سب سے پہلے کس کی آواز میری سماعت سے ٹکراتی ہے۔
1,068 total views, no views today


